27 مئی 2012 - 19:30

ايمنسٹي انٹرنيشنل نے سعودي عرب کي حکومت سے کہا ہے کہ وہ جيلوں ميں بند سياسي قيديوں کو رہا کردے-

ابنا: ايمنسٹي انٹرنيشنل نے پير کو اپنے ايک بيان ميں سعودي عرب ميں انساني حقوق کي خلاف ورزيوں کے واقعات کي مذمت کرتے ہوئے سعودي حکومت سے کہا ہے کہ وہ ملک کي جيلوں ميں قيد سياسي قيديوں خاص طور پر شيعہ مسلک سے تعلق رکھنےوالے بڑي تعداد ميں سياسي قيديوں کو رہا کردے-
ايمنسٹي انٹرنيشنل نے اپنے بيان ميں کہا ہے کہ سعودي عرب کي جيلوں ميں بڑي تعداد ميں شيعہ مسلمان جن ميں مرد و خواتين اور حتي بچے بھي شامل ہيں کسي طرح کے مقدمات کا سامنا کئے بغير قيد ہيں-

بيان ميں کہا گيا ہے کہ ان قيديوں کا جرم پرامن مظاہروں ميں شرکت کرنا ہے - ايمنسٹي انٹرنيشنل نے زور دے کرکہا ہے کہ جيلوں ميں بند شيعہ مسلمانوں کا  کوئي بھي جرم نہيں ہے اور انہوں نے صرف اپنے مطالبات بيان کئے ہيں جو ہر انسان کا حق ہے –
ايمنسٹي انٹرنيشنل نے اسي طرح سعودي جيلوں ميں بند شيعہ مسلمانوں کو وکيل کرنے کے حق سے محروم رکھے جانے کے واقعات کي بھي مذمت کي –

ياد رہے کہ ايمنسٹي انٹرنيشنل نے سعودي عرب ميں انساني حقوق کي کھلي خلاف ورزي کي  ايک ايسے وقت مذمت کي ہے کہ جب  سعودي عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ نے کچھ ہي دنوں قبل دعوي کيا ہے کہ دنيا عقل و اخلاقيات اور انصاف و مساوات کے ذريعے چلائي جارہي ہے ليکن  آل سعود حکومت نے اپنےملک ميں ہر طرح کے مظاہروں پر پابندي عائد کررکھي ہے.

.......

/169